-->
ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں درخواست: انڈیا اور پاکستان کشیدگی کے باوجود کس معاملے پر ایک دوسرے کے ساتھ ہیں؟

ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں درخواست: انڈیا اور پاکستان کشیدگی کے باوجود کس معاملے پر ایک دوسرے کے ساتھ ہیں؟


 

پاکستان اور انڈیا کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری کشیدگی کم ہی مواقع پر انھیں ایک دوسرے کے قریب آنے میں مدد دیتی ہے لیکن کورونا وائرس کی وبا دونوں روایتی حریفوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آئی ہے۔ اب یہ اور بات ہے کہ یہ قربت عارضی نوعیت ہی کی ہے۔

کورونا کی وبا کے باعث انڈیا اور پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد افراد متاثر اور کئی ہزار ہلاک ہوئے ہیں اور اب دونوں ممالک اپنے شہریوں کو کورونا وائرس سے تحفظ دینے کے لیے امریکہ اور یورپ میں بننے والی ویکسین کو جلد از جلد اپنے اپنے ملک لانا چاہتے ہیں۔

انڈیا نے جنوبی افریقہ کے ساتھ مل کر عالمی تجارتی تنظیم ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں ویکسین کے پیٹنٹ یعنی استحقاق قوانین میں عارضی تبدیلیوں کے لیے ایک درخواست دی ہے جو اگر منظور ہو گئی تو اس سے کووڈ کی ویکسین کی قیمت میں کمی ممکن ہو سکے گی، پاکستان نے بھی اس درخواست کی حمایت کی ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان وبا کے آغاز سے ہی عالمی برادری سے ٹیکنیکل مہارت اور وسائل کو کورونا کی ویکسین کی تیاری کے لیے یکجا کرنے کی ضرورت پر زور دیتا آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے


 

پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے سربراہی اجلاس سے خطاب میں عالمی برادری پر زور دیا تھا کہ وہ عالمی مفاد عامہ کے لیے کووڈ ویکسین پر مشترکہ موقف اپنائے اور اسے تمام دنیا کے لیے قابل حصول بنایا جائے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں کورونا ویکسین کی تیاری کے متعلق جمع کروائی گئی درخواست کا مقصد دوا ساز کمپنیوں کو اس ویکیسن کے بنیادی فارمولے سے مدد لے کر سستی ویکسین بنانے کی اجازت دینا ہے تاکہ وہ سب کی پہنچ میں ممکن ہو سکے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاملہ ابھی زیر غور ہے اور اس پر اگلے برس کے آغاز پر کسی ممکنہ فیصلے کی امید ہے۔

ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی اجازت کیوں ضروری؟

ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں شامل ممالک 1995 سے بین الاقوامی تجارت کے ایک مشترکہ اصول پر عمل پیرا ہیں۔

ان ممبران نے تجارت سے متعلقہ ’ٹریڈ ریلیٹڈ ایسپکٹس آف انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس‘ یا ٹرپس نامی ایک معاہدے پر دستخط کر رکھا ہے جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کمپنیوں کی ’حقوقِ املاک دانش‘ کا بنا اجازت استعمال نہ ہو۔

موجودہ صورت حال میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ملک میں تیار کی جانے والی کووڈ 19 ویکسین دوسرا ملک اس وقت تک مقامی سطح پر تیار نہیں کر سکے گا جب تک کہ دونوں ممالک اس پر آمادہ نہ ہوں یا جب تک ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن اس کی اجازت نہ دے۔

 

0 Response to "ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں درخواست: انڈیا اور پاکستان کشیدگی کے باوجود کس معاملے پر ایک دوسرے کے ساتھ ہیں؟"

Post a Comment

Ads on article

Advertise in articles 1

advertising articles 2

Advertise under the article